دُرِّثمین اُردو

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 183 of 195

دُرِّثمین اُردو — Page 183

۱۸۳ ہم نے الفت میں تیری بار اُٹھایا کیا کیا تجھ کو دکھلا کے فلک نے ہے دکھایا کیا کیا جو ہمارا تھا وہ اب دلبر کا سارا ہو گیا آج ہم دلبر کے اور دلبر ہمارا ہو گیا شکر الله ! مل گیا ہم کو وہ لعلِ بے بدل کیا ہوا گر قوم کا دل سنگ خارا ہو گیا 000 پیش گوئی کا جب انجام ہویدا ہو گا! قدرت حق کا عجب ایک تماشا ہو گا جھوٹ اور سچ میں جو ہے فرق وہ پیدا ہوگا کوئی یا جائے گا عزت کوئی رُسوا ہو گا! 000 لوگوں کے بخضوں سے اور کینوں سے کیا ہوتا ہے جس کا کوئی بھی نہیں اُس کا خدا ہوتا ہے بے خدا کوئی بھی ساتھی نہیں تکلیف کے وقت اپنا سایہ بھی اندھیرے میں جُدا ہوتا ہے ۴۔اشتہار محک اخیار واشرار (سرمه چشم آریہ) مطبوعه ۱۸۸۶ء ازالہ اوہام حصہ دوم صفحه ۶۶۵ مطبوعه ۱۸۹۱ء آئینہ کمالات اسلام صفحه ۲۸۱ مطبوعه ۱۸۹۳ء۔حاشیہ اشتہار معیار الا خیار والا شرار مطبوعه ۱۷ / مارچ ۱۸۹۴ء