دُرِّثمین اُردو

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 10 of 195

دُرِّثمین اُردو — Page 10

حمد رب العالمین کس قدر ظاہر ہے نور اُس مبدء الانوار کا بن رہا ہے سارا عالم آئینہ انصار کا چاند کوکل دیکھ کر میں سخت بے گل ہو گیا کیونکہ کچھ کچھ تھا نشاں اُس میں جمالِ یار کا اُس بہار حسن کا دل میں ہمارے جوش ہے مت کرو کچھ ذکر ہم سے ترک یا تا تار کا ہے عجب جلوہ تری قدرت کا پیارے ہر طرف جس طرف دیکھیں وہی رہ ہے ترے دیدار کا چشمہ خورشید میں موجیں تری مشہور ہیں ہر ستارے میں تماشہ ہے تری چمکار کا تو نے خود رُوحوں پہ اپنے ہاتھ سے چھڑ کا نمک اُس سے ہے شورِ محبت عاشقانِ زار کا کیا عجب تو نے ہر اک ذرہ میں رکھے ہیں خواص کون پڑھ سکتا ہے سارا دفتر ان اسرار کا تیری قدرت کا کوئی بھی انتہا پاتا نہیں کس سے کھل سکتا ہے پیچ اس عقد ہ دشوار کا خوبر ولیوں میں ملاحت ہے ترے اُس حسن کی ہر گل و گلشن میں ہے رنگ اس ترے گلزار کا چشم مست ہر حسیں ہر دم دکھاتی ہے تجھے ہاتھ ہے تیری طرف ہر گیسوئے خمدار کا آنکھ کے اندھوں کو حائل ہو گئے سو سو حجاب ورنہ تھا قبلہ ترا رُخ کافر و دیندار کا