دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 71 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 71

تو اسے ایلہ افتاده اند نخستان تسمه برگ افشانده چون مفلسان لیکن اسے موت تو زبان میں پڑا ہوا ہے اور قصوں کی طرح تیرے سب پتھے بھڑ گئے ہیں به تهران چرا بر سر کیں دوی نہ دیدی نہ قرآن مگر نیکوئی تران روشنی سے کیوں مارکرتا ہے تو شاید قرآن میں وارے نیکی کے اور کچھ بھی نہیں کیا اگر نا دے در جہاں ایں کلام نہ مادے به مو نیا نہ توجد نام اگر جہان میں یہ کلام نہ آتا تو دنیا میں توحید کا نام بھی باقی نہ رہتا جہاں بود افتاده تاریک و تار از وشد منور مریخ هر دیار بود دنیا تاریک و تار ہوتی۔اس کی وجہ سے ہر ملک روشن ہوگیا یہ توحید را ہے از و شد عیاں اتنا اہم خبرشند کہ بہت آن گیاں اس کی وجہ سے تو مجید کا راستہ ظاہر ہو گیا۔اور مجھے بھی پتہ لگ گیا کہ خدا ہے دگر تہ ہیں حال آیا کے نواش یہ احسان نگردیاں دین کیش نہیں تو پھر اپنے ہی بزرگوں کا حال دیکھ لے اور انصاف کے ساتھ ان کے دین و ترہیب پر نظر ڈال پیرو آن فرومایه بو گوهری که از منم خود تا به سرسے دہ شخص ذلیل اور بد اصل ہوتا ہے جو اپنے محسن سے بغارت از اندازه خویش برتر مسیر پوشکی مکن چوں ندانی مہنر تو اپنی بساط سے زیادہ نہ اُڑ زیادہ نہ اُڈ۔اگر تجھے علم نہیں ہے تو طبابت مذکر نہیں مان کر این کاریز درانی است نه از دخل و در میانسانی است یقین کر کہ یہ ذہب تھا کی بات سے ہے اور انسانی تدبیر کا اس میں کوئی دخل نہیں نام۔۔۔۔