دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 53 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 53

۵۳ اول تیارا مد به گفتار یار اگرچه پیش دید را باشد نگار حل کو مجوب کے کلام کے منا آرام نہیں تھا۔نمراہ محبوب آنکھوں کے سامنے ہی ہو پس جو خود بی خود اندر حجاب کے توان کردن صبوری از خطاب یکھی جب محجوب خود ہی پردے میں ہو۔تو کلام کے بغیر صبر کس طرح آسکتا ہے ایک آن داند که او دلداده است در طریق عاشقی افتاده است گر ان باتوں کو صرف وہ عاشق ہی جانتا ہے۔جو راہ محبت کا وقت ہے حن رابا عاشقانی باشد سرے بے نظرور کے بود خوش منظرے کا ناشقوں کے ساتھ تعلق ہوتا ہے اور کوئی حسین بغیر تعداد ان کے نہیں ہوتا عاشق آن باشد که د گر ز دست در طریق عشق خود بینی بدست | عاشق وہ ہوتا ہے جو اپنے آپ کو بھول جائے۔طریق عشق میں آپ کو کچھ بھنا برا ہے لیکن بنتیصال این کبر و خودی نیست ممکن مجمه به وحی ایزدی لیکن اس تکبر اور خود ی کا استیصال - خدا تعالی کی وحی کے بغیر مکھی تھیں امر که ذوق یار جانی یافت است آن زردی آسمانی یافت است میں نے اس ملی دوست کے وصل کا لطف اٹھایا۔اس نے صرف آسمانی وحی کی بدولت اُٹھایا عشق از الهام آمد در جهان | ورود از الهام شد آتش نشان | عشق الہام ہی کی وجہ سے دنیا میں آیا اور رونے بھی الہام ہی کی وجہ سے آتش نشانی کو شوق و انس والفت و مرد و تا جمله از الهام می دارد نیا شیق اُنس راعت اور ضرو وقد ان سب کی رونقی الہام کی وجہ سے ہے