دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 52 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 52

۵۲ ا چون تنا حیران گذارد در معاد اسے عجیب تو حائل و این اعتقادا ور مجھ کو آمورت کے محاطر میں کیوں پریشان پھوڑ سے تعجب ہے کہ عقلمند ہو کر تو یہ اعتقاد رکھتا ہے دست داده اند ا سے بے خبر نہیں چرا پوشی کیسے وقت نظرا سے ہے جب جب تجھے دو آنکھیں دی گئی ہیں پھر دیکھنے کے وقت ایک کو کیوں بند کر لیتا ہے آنکه زو ہر قدر تے گی یہاں قدرت گفتاریوں ہاندے نہاں رات جس سے ہر قسم کی قدرت ظاہر ہو ئی۔قدیرنے کی قوت کس طرح حنفی ہو سکتی تھی آنکه شد هر وسعت پاکش جلوہ گر پس چرا این وصف اندے سنتر وہ ہستی میں کی ہرنا کی صفت ظاہر ہوگئی پھر اس کی یہ صفت کیونکر چھٹی رہ سکتی تھی که او غافل بود ازیاد دوست | چاره ساز فلتن پیغام ها دست | جو خدا کی یاد سے فاضل ہو۔تو خدا کا پیغام ہی اس کی مغفلت کا چارہ سانہ ہوتا۔تو عجب داری نہ پیغام خدا این چه نقل و فکرایت اسے خود نما تو خدا کے پیغام پر تعجب کرتا ہے اسے شکر یہ تیری محفل اور سمجھ کیسی ہے العلب امر یوں خاکیان ما عشق دادی امانتان را چو بینگند سے زیاد اس کی مہربانی نے جب مٹی کے پتلے کو شش بخشا۔تو وہ اپنے عاشقوں کو کیوک کھیل سکتا عشق ہوں بخشید از لطف انتم ہوں نہ بخشید ے والے اس المر جب کامل مربیانی سے اس نے محبت دی۔تو پھر کیوں اس درد کی دوا نہ بخشتا وردیدا کرد از خشن خود دار کتاب کیوں نہ کردے از سریت خوابیل ی اس سے اپنے حق سے بلہ سے دلوں کو کباب کر دیا تو عورت کے ساتھ ہم سے کام کیوں فکری