دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 356 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 356

۳۵۶ از تو خنداں پر خود پسندیدی من ندانم چه در خزاں دیدی گر کرتے اپنے لیے خواب کو پسند کیا ہے میں نہیں جانتا کہ نہ ان میں تو نے کیا فائدہ دیکھا ن زنده کردن آمد یار تو هم از دست خود شدی شود تو هم از یار تو مجھے زندہ کرنے آیا تھا۔گر تو اپنے ہاتھوں ہی مردار بن رہا ہے۔قته با پیش سے کنی ز خلال کائیں کرامات ہائے اہل کمال گمراہی کی وجہ سے تو تصوں کو پیش کرتا ہے کہ یہ ہیں اہل کمال کی کرابات گر دریں قصہ با اثر بودے دلت اور میں دور تر بودے اگر ان قصوں میں کوئی اثر ہوتا۔تو تیرا دل ناپاکی سے بہت دور قصه را گر بیاں کنی تو هزار کے روداد توخیت دل زناد اگر تو ہزاروں قصے بھی بیان کرتا ہے تب بھی تیرے دل کی خباثت کہاں دور ہو سکتی ہے میں تخصص اینکی سرده شاید صد ہزارمان بگو چی کار آید قصوں سے کوئی راستہ نہیں کھلتا۔لاکھوں قصے بیان کرتا پھروہ کس کام کے ہیں نشیں مدتے باہل یقیں نا دھندت دو دیده حتی ہیں کچھ مت توابل یقین کی صحبت میں رہتا کہ تجھے تقی شناس آنکھیں میں اندروان او بست ویو خصال به زباں قصہ جاتے ان ابدال تیرا باطن تو شیطان سیرت ہے۔اور زبان پر ابدالوں کے تھے ہیں سفته چهل روشن مال منی است از ما دار شیر بکشه و شب پاری بگذار تدا کی خانہ سے جب ولی روشن ہے تو کو بھی آنکھیں کھول اور چھلکا در کنا چھوڑ دے واحد سے