دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 354
۳۵۴ صد هزاران نشان مے بینی باز منکر شوی دبے دینی تو لاکھوں خشان دیکھتا ہے۔پھر بھی بے دینی کی وجہ سے تو انکار کرتا ہے نوشین را تو کالیم انکاری نہیں فضولی کئی بغداری تر اپنے تئیں عالم سمجھتا ہے شاید اسی لیے قراری سے ایسی فضول باتیں کرتا ہے ناز تو بستی ات بدر نرود این رگ شرک از تو بر نرود جب تک تیری خود می تجھہ میں سے نکلے گی تب تک یہ شرک کی رگ تجھ سے دور نہ ہوگی پائے سیمیت بلند تر نرود تا ترا درد دل بسر شود تهادور تیری کوشش میں برکت دو پڑے گی۔جب تک تیرے دل کا دھواں سترتک نہ پیچھے باید پیدا شود مدال هنگام که تو گردی نهال از خود تمام دوست اس وقت ظاہر ہو گا۔جب تو اپنی ہستی سے پورے طور پر علیحدہ ہو جائے گا تا ده سوزی ( سوز و غم فرهی تا نه میری ز موت ہم نہ رہی تو تم سے آزاد نہ ہو گا جب تک سوز غم سے نہ ملے گا اور موت سے آزاد نہ ہو گا جب ایک فنا نہ لگا ست آل مزه ملانی بین این نیست ارتش اندر دلیے بنا کر سوخت دور کیسی بیہودہ جان اور جہان ہے جو نہیں جاتا۔ایسے دل کو آگ لگاد سے ہو عشق میں کیا ہوں نہ ہوں کلیه تصمیم خود بکن برباد چل نے گردو از خدا آباد ان جم اینجوری که بر باد رہے اگر وہ خدا کے عشق سے آباد نہیں پاتے خود را جدا کن ادرین خویش چون نگیرد و و صداقت پیش اپنے پیر کے جسم سے کالے کر میدا گرد ہے۔اگر وہ صداقت کا راستہ اختیار نہیں کرتا