دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 351 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 351

۳۵۱ حجت تو در میاں آرمی خبت نفس است اصل بیزاری تو نفر اولائیل پیش کرتا ہے۔حق سے بیزاری کی اصل وجو تیر نے نفس کی جائت ہے۔هر چی ثابت شد است از قرآن تو از و سر به هیچی اسے نادان جو بات قرآن سے ثابت ہے اے نادان تو اس سے سر پھیرتا ہے صد قتال شد عیاں ہو مر منیر از دشت این درونی یا نزدی سینکڑوں نشان چھتے ہوئے سورج کی طرح ظاہر ہوگئے لیکن تیرے نزدیک یہ جھوٹ یا فریب ہیں دیدہ آخر برائے اس باشد که بدو مرد راه دال باشند آخر سنکھیں اسی لیے ہوتی ہیں کہ اُن کی مدد سے انسان راستہ کا واقف ہو جائے وده چه این شیر هست و این دیده که برو آفتاب پوشیده ہیں۔داہ دا یہ مجیب اسنکھیں ہیں۔کہ اُن سے آفتاب بھی نظر نہیں آتا گر بدل با شدت خیال خُدا این چنین ناید از تو استغفال اگر تیرے دل میں خدا کا خیال ہوتا تو اتنی بے پروائی تجھ سے ظہور میں نہ آتی از اور از دل و جان طریق او ہوئی اواز سرصادقی موئے اور پوٹی د تو جان و دل کے ساتھ اس کا راستہ ڈھونڈتا اور وفاداری کے ساتھ اس کی طرف دوڑتا هر که اول بود دلداری خبرش پرسد از خبر داری جس شخص کا دل کسی معشوق سے لگ جاتا ہے وہ اس کی بغیر کسی وائف سے پوچھتا ہے گر نباشد تقائے محبوبے جدید از نزد یار مکتو ہے اور اگر محبوب کی ملاقات میسر نہیں آتی تو واہ دوست کے پاس سے خط کا طالب ہوتا ہے۔