دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 330
٣٣٠ کا ر ہا نے کثر یہ انسانے ہمچو باد صحا بہ بنتا نے ر المنام انسان کے ساتھ وہی کام کرتا ہے جو باد صبا باغ کے ساتھ کرتی ہے یہ مے کشاید در چشم انسان را می نماید جمال رحمان را می النعام آدمی کی دونوں پرنکھوں کو کھول دیتا ہے اور رحمان کا جمال دکھلا دیتا ہے۔دن وی شده بر گردد باز بسته گردد به آدمی در آن نیا کی وحی کا دروازہ کھتا ہے تو آدمی پر حرص کا دروازہ بند ہو جاتا ہے یکی شیش کار می کند به درمان در دل آید فرو نرخ بیچوں ی این انسان کے بانی کو دور کرتی ہے اور اس کا خدا کا رول کے اندر از جاتا ہے تان ول نمی ناک شش دل نمی شود بیدار متنفریه غیر و طالب یار و اس شش سے دل بیدار ہو جاتا ہے اور وہ غیر سے متنفر اور خدا کا طالب بن جاتا کون سر حرص و آز تابندہ سوئے یار ازل شتابنده روز دہ ہنر لالچ اور حرص سے منہ پھیر لیتا ہے اور بابر ازلی کی طرت دوڑتا ہے میوه از روضه فتا خورده و از خود و آرزوئے خود مرده د بارغ تھا کا میوہ کھاتا ہے خودی اور خواہش نفسانی کی طرت سے مر جاتا ہے سیل عشقش بن جائے خود برده رخت در جائے دیگر آورده ا کی محبت کا یا اسے اپنی اور بہا کر تا ہے وہ کسی اور جگہ اپنا ڈیرہ حلال چیست پاک وطبیب کیشم ہے چونے میش کو ماں خبیث وطلعو نے دینا نے بچوں کی نظرمیں پاک صاحب ہو جاتا ہے اگر چہ اندھیوں کے نزدیک خبیث اور مون ہوتا ہے۔