دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 329 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 329

با به حال که دیگر خود در این نور کور ماند و به نور حق میحون خودند گر میں نے عمر بھر وہ روشنی نہیں دیکھی وہ اندھا اور خدا کے نور سے دور ہی رہا کی نیا به انسان میاں اسرار پر امید ہے کہ یا بد آن گفتار رتی بھی اس یہود کیا ہے اور مال نہیں کیا سوائے اس سعادت مند کے جسے امام نصیب ہو جائے هر که این مرد سر او تافت فوق مہر خدا ہماں کس یافت کس جس کے سر پر یہ آفتاب چکا وہی خدا کی محبت کا جا چکھتا ہے پیچ وانی کلام جمال چیست وانکہ اس خویافت اس وکیبیت تی رہی ہے اور ان کا کیا چیز ہے اور وہ چاند کو نا ہے جس کے پاس کلام رمان کا سورتی ہے اس کلامش که نور با وارد تشکیب از قلوب بردارد اس کا وہ کلام جو اپنے اندر انوار رکھتا ہے دلوں سے شک و شبہ کو دور کر دیتا ہے۔نور در ذات توایش و نور دید رنگ سرشک و ہر لگاں برد وہ خود بھی نور ہے اور دو سول کو بھی نور عطا کرتا ہے اور پر شک اور گمان کی بو کاٹ دیتا ہے مل که باشد گرفت داده ام با بیان دے سیکنت و آرام وہ دل جو وہم میں گرفتار ہو ہی سے تسکین اور آرام پاتا سمجھ مینے کہ سبت فولادی در دل آید فرامیت شادی در وہ ایک فولادی میخ کی طرح دل میں گڑ جاتا ہے اور خوشی کو بڑھاتا ہے۔دوره عادت نادر شفاق یارہ زہر نفس چوں تریاق چاره اس کی برکت سے سوا اور جھگڑے کی بات محمد ہوا ہے اور وہ تریاق کی طرح نفس کے زہر کا طاری ہے۔