دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 307 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 307

нов الهاي شي مباش ایمین از روزگار گردش روزگار سے بے خوف نہ رہ سے سردی کی کریا کا مصرع ہے ربدر ۳۰ اپریل ۲۱۹۰۷) تو مروان آن راه چهل دیگری که از کینه و بعض کورد و کری اس راہ کے پیروں کو کس طرح دیکھ سکتاہے کرو تو کیا اور دعا کے دورے اندھا اور پیرا رہا ہے چہ دانی که ایشاں جہاں می زیند ز دنیا نهال در نهان می زیند تو کیا جانتا ہے کہ یہ لیگ کو کر جیتے ہیں۔وہ تو دنیا سے پاشیده در پوشیدہ زندگی بسرکرتے ہیں ندا گشته در راو آن جان پناه زکف دل ز سر اوفتاده کلاه وہ اس جان کی پناہ مداد ند کی راہ میں قربان ہیں ان کا دل ہاتھ سے جاتا رٹ اور ٹوپی سر سے ے پیش رفتہ کوئے دگر تحسین ولسن جہاں بے خبر ان کا زخمی و کسی اور ہی کو چہ میں رہتاہے اور وہ دنیا کی آخری اور فوری دونوں سے بے خبریں جو میر را دیوار شرابیت پر بیت المقدس رول ممن تاب را کرده دیوار بیرون شمائے ے المقدس کی طرح ان کا اندرونہ روشن ہے اگر باہر کی دیوار خراب مجھے پوستان سعدی کا شعر ہے رچشمه معرفت صفحه ۲۴۰ مطبوعه ۶۱۹۰۸