دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 296
P49 ہے ی اولال مجرد رادیوانہ بہت دور سب نے خود آن رو پنهان تو ے چوتھے مقتل کے زور سے وھو وقت ہے۔تیری پوشیدہ راسری عقلوں سے بہت دور ہے۔ازانین بینکس اگر نشد سوا کشت شد ز احسان بے پایان تو راگش از وں میں سے تیری بارگاہ کا کوئی بھی واقف نہیں ہو بھی واقعت ہوا وہ تیر سے بے حد احسانات کی وجہ سے ہوا جو انستان کے خود ا ہوں مری ہی بہر حال ہی میں دیدہ علمان تو ہے عاشقوں کو دو نوں جان بخش دیتا ہے۔لیکن تیرے غلاموں کی نظر میں دونوں جہان بیچ میں یک نظر فرمان کو میشود جنگ بعد ال خلق محتاج است کئے جانے پر مان تو مرانی کی نظر فرام کہ جنگ بدل ختم ہو۔محرکات تو تیر سے دلائل کی کشش کی محتاج ہے ی نشان میان افت دوختند در جهان تا شو در منکریت محامد خوان تو ایک نشان دکھاتا کہ تیرا ور دنیا میں چھے اور سنا کہ ہر ملکہ اسلام تیرا ثنا خواں ہو جائے۔تیرانا گر این درود برگرد ندارم هیچی نمی خوری امیر گمرگ درد درخشان تو گر میں دیر دیر ہوجائے تومجھے کوے نہیں تھے یہی ہے کہ ہمیں تیری این ماہ کم نہ ہوجائے یش روی در سر بسیار است قد کوتاه کن بآیات عظیم الشان تو دین کے معاملہ میں گفتگو اور بہت بڑی دند سری ہے۔تو عظیم الشان نشانات دکھا کر تہ مختصر کردے انتقال من در فارت ایار را اگر این نو سال سوئے آل ایوان تو شمنوں کی فطرت کو زلزلہ و کھا کر ہلا ڈال ہے کہ وہ ڈر کر تیری درگاہ کی طرف آپ نہیں اے ریت وال کنی در پیاس اور ایک بوند تمرین نگران تو