دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 295 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 295

194 حاصل این داستان هر تنگ ہوگا مصلحت کشد که بجنگ اس دور رنگی مشوق سے کیا حاصل ہوگا۔یہ بھی تھے صلح کر کے قتل کرتا ہے کبھی لڑائی کر کے جه اول به ندی جیهان داستان کو مرض رباند بز بند گراں تو اس جھوپ سے اپنا دل کیوں نہیں لگاتا کہ جس کی محبت قید شدید سے آزاد کر دیتی ہے مد نگری انجام کن اے مغربی و مستعدی شنو گر ز من نشنوی گرا شخص جا اور اپنی عاقبت کی فکر کہ اگر میری بات نہیں سنتا تو سعدی کی بات ہی مجھ سے عروسی بود نوبت ما نمت اگر بر نکوئی بود خاتمت ؟ ہی ان کا شادی یا ارارات کی پوری رات کا کیا ہے ان کے نوش کی گھڑی ہوں الوصیت صفر ۲ مطبوعہ ۹۰۵ هوم سے سعدی کا مصرع ہے الها فى مصرع زدلایل در ایوان کسری فتانه کسری کے محل میں زرینہ آگیا ۲۴ جنوری ۶ ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا تا کی بایت بر روان تا سرمایی در سے اپنی مسرت کا ہر دروازہ کھول دے