دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 293
۲۹۳ الهامي مصرع رہا گوسفندان عالی جناب ہارگاہ عالی کی بکریاں رہا ہو گئیں الهامي شعر ریلوے سوال کرتے ہیہ ۱۹۰۵ء) مید خود را در اینده آن می شود که الان میان است که یہ اچھی خبر آئی کہ وہ پیار ا دوست آگیا۔خوشی کی بات ہے کہ در میاندر سے دیوار اٹھ گئی ریور ۲۰ اکتوبر ۲۱۹۰۵) الا سے کہ ہشیاری و پاک داد نئے حرص دنیا مدہ دیں بیاد شہر دارا اسے وہ بہو مجھے دار اور نیک فطرت ہے کہ دنیا کے لانچ کے پیچھے جہان کو برباد نہ کر ہیں دار فانی دل خود مبند که دارد نهال راحتش صد گزید اس فانی دنیا سے اپنا دل نہ لگا۔کہ اس کے آسام میں سینکڑوں ڈکھ پوشیدہ ہیں گرباز اگر بازه باشد تنها گوش ہوش زیگورت ندائے در آید بگوش اگر تیرے ہوشش کے کان کھلے ہوں۔تو تجھے اپنی قبر سے یہ آواز سنائی دے کو اسے محور مین پس از چند روز پیے نکر دنیائے دوں کم بسوز کہ چند روز کے بعد اسے میرے تھے۔تو اس پیل دنیا کے غم میں نو جوا کر ر :