دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 287
یر پروانه نشست هم بروم که ما گزارش مرنے پیار اور کرم میں تو ہر وقت ایک رستہ پر بیٹھا ہوں تا کہ اپنے نندا کے حضور اپنی التجا میں نے یار کہ از ہر قوم می سوزم مگرایش جدول پیش و نارد بیکر ہر ام وا کی تم میں اپنی قوم کی غیر شاہی میں لایا ہوں ان کو کال کی نا انا انا انا انا ان کی ماری کوتا را یکم اور چوری ۱۳۹۴ الها في مصرع اسے بسا خا نہ دشمن کہ تو یہاں کردی بہت سے ٹیموں کے گھر ہی ہو تو نے برباد کر دیئے ہیں تا جب آنان این کر دی خودم میره با تو کسان کردی کردی یار نے بیت تو نے عجیب رنگ دکھائے تو نے بیاہ کی راہ میں زخم اور مریم بانک دیتے ی و درمان و پریشان کردی برایشان تو سرگشته بیان کردی دونوں جہان کے مجموعہ کو تو نے چند گندہ کردیا اور سب کا شقوں کو تو نے دیوانہ اور حیران کر دیا ایک بار کنی چون خورشید اے بہانا کہ تو چوں منقاباں کردی کی تھی سے آوارہ کو سور بنا دیتی ہے اور یہ دو باری طرح کی اک کر نے کیا ہوا چاند بنا دیا کو تو ن را باز بودی که یک جلوه فیض حیدر فاتن بزودی بهمن آسان کردی اداہ وا تو نے کیسا موجودہ دکھایا کہ فیضان کی ایک جھلی سے جانے کا دروازہ بند کر دیا اور تا آسان کر دیا۔