دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 250 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 250

۲۵۰ الهامی شعر سال دیگر۔کہ مے داند حساب تا کجا رفت اگر ما بو دیاز آئندہ سال کا حساب کون جانتا ہے جو دوست گذشتہ سال ہمارے ساتھ تھے وہ اب کر مر گئے؟ وسعدی کا شعر ہے، دالحکم کے مئی 1901م الها فى مصرع سلامت یہ تو اسے مرد سلامت اسے سلامتی والے انسان تجھ پر سلامتی ہو intrident با هر کردن اشتا یاسیت قرابه کارت آخر بر است تجھے میں کسی سے بھی دوستی کا تعلق ہے اس کا انجام آخر جدائی ہے از فرقت برو سے بار ے نباشد که با میر نداش کارے نباشد اُس شخص کی جدائی سے دل کو صدمہ نہیں ہوتا جیسے مرنے والے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا را تجار الحکم جهادی شہر اور علوم مور اور اور اگست ۹۰۱ روم ریق ورطه بحر محبت و بر مری نظر باشدن برکین ه ہر عشق کے بھنور میں غرق ہونے والے گو نہ اُس کی محبت پر نظر ہوتی ہے نہ خطہ پر