دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 248
۲۴۸ ہے میان تعلقی ها که با تو داشتن کمال محبت حا که در دل کا انتم تو اس شخص کے باعث ہو میں تجھ سے دکھتا ہوں اور اس محبت کی وجہ سے جو میں نے اپنے دل میں بونی خود یہ دل آراز نے ابراء من اسے تو کہت ملجا دماد ائے میں تو آپ میری بریت کے لیے باہر نکل۔تو ہی میرا حصار اور جائے پناہ اور ٹھکانا۔آٹے کا ندر دلم افروختی وز دم آن غیر خود را سوختی کو آگ جو تو نے میرے دل میں روشن کی ہے اور اس کے شعلوں سے آنے اپنے غیر کو جلا دیا ہے۔مانان آتش سرخ من بر فروز ویں شب تار م مبدل کن بروز سی آگ سے میرے چہرہ کو بھی روشن کردے اور میری اس اندھیری رات کو دن سے بدل دے این جهان کور را اسے شدید پیش بنما دور را چشم بکتا اس اندھی دنیا کی آنکھیں کھول اور اسے سخت گیر خدا تو اپنا زور دکھا نه آسمان نوره نشان خود نما ایک گلے از بوستان خود تمام آسمان سے اپنے نشان کا نور ظاہر کہ اور اپنے باغ میں سے ایک پھول دکھا ای جان ایمنی پر از فسق و فساد غافلان را نیست نفت موت یاد میں اس جہان کو فسق وفجور سے پر دیکھتا ہوں فاضلوں کو موت کا وقت یاد نہیں رہا اند حقایق فاضل و بیگانه اند بیچھ طفلان مائل افسانه اند اور حقایق سے فاضل اور ناطاقت میں اور بچوں کی طرح کہانیوں کے شائق ہیں سرو شده اما درے کے دوست نے دیا ناتر از کونئے دوست ان کے دل تھا کی محبت کے سر میں معمول کے رخ ندا کی طرف سے پھر گئے ہیں