دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 242
۲۴۲ بے خوابات خدا کا راست نام بیفته داند این سخن را او الشام خدا کی مروانی کے بغیر کام ادھورا رہتا ہے عقلمند ہی اس بات کو جانتا ہے۔والسلام د سراج منیر، آخری معلمات خطیر یہ کام نی زور مهران و شہری کو بستم بر دے قید مارت القرابه میرے سامنے کسی بادشاہ کا ذکرنہ کرکیونکہ میں تو ایسے دروازہ پر امیدوار پڑا ہوں داوند کی جان بخش جهان است بدیع و خالق و پر درد گارے جو دنیا کو زندگی بخشنے والا ہے اور بدیع اور خانی اور پر مددگار ہے کریم و قادر و شکل کشائے نیم محسن وحاجت ہمارے کریم و قادر ہے اور مشکل کشا ہے رحیم ہے محسن ہے اور حاجت روا ہے اندام پرورش زیرا که گویند بر آید در جمال کار سے زکارے یں اس کے ارادہ چاہتا ہوں کی کوک کا شور ہ کر دیا میں ایک کام میں سے دوسرا کام مکمل ہوتا ہے جو اس بابه وفاداره آبیدم یا د فراموشم شود سر خوشی دیاری جب وہ یار وفادار مجھے یاد آتا ہے تو ہر رشتہ وار اور دوست مجھے بھول جاتا ہے بغیر او چال بندم ولی خویش کو بے ریش نے آید قرار ے میں سے چھوڑ کر کسی اور سے کس طرح دل لگاؤوں کے بغیر اس کے مجھے چین نہیں آتا کس لم در سینه ریشم مجو نیند کی تیمش بدامان نگاری ول بھی سینے میں نے اسے سے بندھا ہے دل کرے بھی سینے میں وھوالی کریم نے اسے ایک محبوب کے دان سے باندھ دیا ہے۔