دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 211 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 211

چاره ساز بندگان قادر خدا آنکه ناید تا ابد برو سے تا وہ بندوں کا چارہ گر اور خدائے قادر ہے جس پر کبھی بھی خا نہیں آسکتی حافظ د نتار د بواد و کریم بیکساں را یار و رتیلن و تیم ان افت کر نے مانا باد و روش سنی اور کیا ہے بے کسوں کا دوست ہے حد رحم کرنےوالا احد حمران کرنے پردہ تو چہ دانی اس خدائے پاک را الک جلال ہو تو دادی خاک را اس خدا کے پاک کا مال کیا جا سکتا ہے موت کا مقام تو تونے ایک خاکی انسان کو دے رکھا ہے ہاں دینے سر دم نکتاره زنی پس نه مرد استنی که کمتر انه نزنی ر ایک رات سے بھی گیا گناہ ہے ادارہ کی شیخیاں ہی بگھارتا رہتا ہے لیس تو مرد نہیں گذرا انسته سهل است گر یا بد سزا زیده و گرد دیگر زنان فعلش رویا برزیل یہ تو بڑا آسان نسخہ ہے کہ سزائے زید کو۔اور کبر اپنے گناہ سے پاک ہو جائے ایک زریں سفیہ نے یا بی نشان در ورق ہائے ترین و آسمان لیکن اس نسخہ کا تجھے نام و نشان بھی نہیں لے گا زمین و آسمان کی کتاب کے دو قول ہیں تا خدا بنیاد این عالم شہاد کالے ہم زنگ دارد زیں فساد جس سے خدا نے اس دنیا کی بنیاد رکھی ہے اس وقت سے نالوں کو بھی ہی شرارت سے مار آتی ہے۔چون ندارد و فاسقے آن را پسند ہوں پسند و حضرت پاک و بلند کی تائی بھی اس بات کو پیش کرتا ہے تو دا تعالی جو پاک ہے روہ سے کس طرح پسند کرسکتا ہے ا گنهگاریم نالاں نیز هم او غیور سے بہت رحمان نیز علم