دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 151 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 151

گر فریق انور نجاست راست تی اند یہ دریائے درآر و غوطہ زمان اگر تیرا بدن نجاست سے تھوڑا ہوا ہے، تو کسی دریا پر جا اور مخلوط مار دسره میشم آریہ صفحه ۲۳۳) ہور گانے کی ایجاد در طرح قدس که مرا در وان شان دیار نظر می آید میں یہاں روح القدس کی مکامات کی نہ کر سکا ہو کہ مجھے تو ان کے دل میں ویو پٹھا ہوا نظر آتا ہے۔یکی ریاست اسلام کو خورشید میاں کہ ہر عمر سجانے دگر می آید اسلام ہیں یہ امداد سورج کی طرح ظاہر ہے کہ ہر زمانہ کے لئے نیا مسیحا آتا ہے درس همه چشم آردیده تقویم بود با مشاور تیم در نظرشان مربا و ماری کوردست کیم نانی ام به واردا جب میرے دل پر میرے چاند نے محبت کی نظر ڈالی تو میرے بیاہ دل کو خالص پاندی بنا دیا تلفت میجر دلبر بردم مرا بخواند هر چند مے زند این اخبار و مارا ور کیا اگر ربانیں مجھے بارہی ہیں ہرچند کہ یہ خبر لوگ ہمارے راستہ میں رکانہ میں ٹی لھتے ہیں کوئے دولت روان ناک کو شب ورو تا دیر نشان چه باشد اقبال وجاه مارا میں تو دن رات ہے مجیب کے کوچہ ہی ناک کی طرح پڑا رہتا ہوں اس سے بڑھ کر ہمارے عورت اقبال کی اور کیا علامت ہے صفحہ