دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 150
ہوں نے دہی دود کے ساز عشق بارش ذکر مرینگ خویش آمیزد جب عشق کی وجہ سے کسی کی خودی کا رنگ جا تا ہتا ہے تو یار اپنی ربانی سے اس پر پنانگ چڑھا دیتا ہے۔بین ولی ہے باید از۔سینه می باید تنی از غیر یار دل کے باید پر از یاد نگرا یارے کے سوا ہر چیز سے سینہ خالی ہونا چاہیئے اور دل محبوب کی یاد سے بھرا رہنا چاہیئے جال ہے باید برا و گو ندا سر ہے باید بہائے او نشار أو جان موس کی ماہ میں قربان ہوتی چاہیے اور کمر اس کے قدموں میں نثار ہونا چاہیئے بیچی دانی چیست دین عاشقاں کو مت گریشنوی عشاق وار کیا تھے معلوم ہے کہ عاشقوں کا دین کیا ہوتا ہے میں تجھے بتاتا ہوں اگر تو عاشقوں کی طرح اسنے همه عالم فرو بستی نظر اور دل شستن زیر دوستدار اور وال و رویہ ہے کہ اسے جان کی بات سے پنکھ بند کیا اور دوست کے سوا ہر چیز سے دل کی تختی کو دھو ڈالتا تب خریے سے کنانہ خوب تر عشق را درمان بود شق دگر راد میں اپنے سے کم میں کو چھوڑ دیتا ہے ایک عشق کا علاج در سرامشتق ہوا کرتا ہے شیر شیر سے نماید رو به تن می توان آران به آنان کو قتین رویہ تیر ہی شیر سے زور آنا ہو سکتا ہے تو ہے کو لوہے سے ہی کوٹ سکتے