دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 147 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 147

۱۴۵ واہیں طرفہ کہ بیچی کم نہ گردو با آنکه عطائے مثبت بسیار پھر لطف یہ ہے کہ ان نعمتوں میں کوئی کمی نہیں پڑتی۔باوجود یہ تیری بنشیں ہے جدا ہیں نی تر می کند ز بر می سر تو بخود کشد ز سر یار تبر من سر تن سے بے نیاز کردیتا ہے اور تیری محبت ہر دوست کو چھڑا کہ اپنی طرف کھینچ لیتی ہے ہر سینتی ن نمکینت ار نہ بودے از حسن نہ بودے پہینچی آثار از نہ اگر تیرا نمکین حسن نہ ہوتا۔تو دنیا میں حسن کا نام و نشان نہ ہوتا شوخی زنتو بافت روئے خوباں رنگ از تو گرفت گل به گلزار مجولیوں کے چہروں نے تجھ سے روتی پائی پھول نے چمن میں تجھ سے رنگ حاصل کیا سیمیں وقتاں کہ سیب دارند آمد یہ یہاں بلند اشجار آمد حیتوں کے پاس جو سیب جیسے رشار ہیں۔یہ اتنی اونچے درختوں سے آئے ہیں اب ہر دو ازاں دیار آیند گیسوئے بنان وشک مامتار یہ دونوں بھی اسی ملک سے آتے ہیں: حسینوں کے گیسو اور تاتار کا مشک از پر نمایش مالتا بینیم همه چیز آئینه دار تیرے جمالی کی نمائش کے لئے میں ہر چیز کو آئینہ سمجھتا ہوں ہر برگ صحیفہ ہدایت سر بمہر و عرض شمع بردار ہر پتا چایت کی ایک کتاب ہے۔ہر خات وصنعت تجھے کھانے کے لئے مشعیلی ہے بر نفس تو رہے نماید سر حال بد ہر سلائے این کار ہر نفس تیرا راستہ دکھاتا ہے اور ہر کمان بھی اس بات کی ہی آواز دی ہے