دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 146 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 146

انتر کی ایک پوشیده چشم دل اند سہانا کریں تو تیا فاضل الله وہ لوگ جن کی دل کی آنکھ پر پڑھ پڑا ہے۔یقیناً وہی ہیں جو اس سرمہ سے بے خبر ہیں۔دل به چشم آر به صفحه مطبوعه شام شراره اسے دلیر و دوستان و دلدار و اسے جان جهان و گو به انحدار جان جهان گور دا اسے ودانی اسے دلیر محبوب اور دلدارہ اسے جمال کی بیان اور نوروں کے تمد ارزان ز تبعیت دل و جان میرون ریخت قلوب والمعمار۔۔یمانی و دل تیر سے جلال سے کانپ رہے میں تقریب اور نظریں تیرے رخ کو دیکھ کر حیران میں دور فات تو مجرہ تیرے نیست هنگام نظر نصیب افکار تیری قدرت کے بارے میں حیرت ہی حیرت ہے۔تور دفکر سے جب سے جب بھی دیکھا جائے در غیبی و قدرت ہویدا پنهانی و کار تو نمودار ! تو آپ غیب میں ہے مگر تیری قدرت ظاہر ہے تو شفی ہے گر تیرے کام نمایاں ہیں دوری و قریب تر ز جان هم تنوری ونمان تما از شب نامه زدور ہے گر جان سے بھی زیادہ نزدیک ہے تو تو ہے مگر اندھیری رات سے زیادہ پو شیدہ نور ال کبیست کہ منتہائے تو یافت وال کو کہ شو و محیط اسرار وہ کون ہے جس نے تیری انتہا کو پایا اور وہ کون ہے جوتیرے بھیدوں پر حاوی ہو گیا کر دی دوجہاں یہاں قدرت ہے مادہ و بے نیاز انصار تر نے مخش قدرت سے دونوں یہاں پیا ر کیے بغیر ادا کے اور بغیر رد گاروں کی امداد کے