دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 135
ira جہاں شام کے جان فراموش شود هر زمان آید ہم آغوشش شود وہ اس کی جان ہی گیا اور جان کب بھلائی جاسکتی ہے وہ ہر وقت آتا ہے اور اس سے قبل گیر ہوں دیده چون بر دلبر دست اورفتند هر چی غیر است از دست او فقد او ویر مست پر جب نظر پڑتی ہے تو ہر چیزا جو ہاتھ میں ہوتی ہے گر پڑتی ہے غیر گو در بر بودو در ست دور یا یه دور افتاده سردم در حضور غیر اگر پہلو میں ہو پھر بھی دور ہے۔لیکن یار اگر دور بھی ہو تو ہر وقت پاس ہی ہے کارت باید عاشقان کار محمد است به تر از فکر و قیاسات شماست عاشقوں کا کاروبار ہی میدا ہے۔اور تم لوگوں کے فکر و قیاس سے بالا تر ہے قیم قبا راست دل در دلیرے چشم ظاہری پدیدار و در سے یہ قوم بڑی ہشیار ہے ان کا دل تو دلبر ہی ہوتا ہے اور ظاہری آنکھیں دور دور بہار کی طرف یال خروشان از پے در پیکر بر زبان نرفته با از دیگر سے ان کی جان تو ایک جسموں کے لیے تراشتی ہے اور ان کی زبان پر لاروں کا ذکر ہوتا ہے انیاں مامان از یار محبت و دوران پر سرشان بار نیست تانی لوگوں کے لیے کوئی چیز بھی بار سے منع نہیں۔بیوی اور بچے ان کے سرپر بوجھ میں ہوتے با دو صد زنجیر بر دم پیش یار غار با او گل گل اندر ہجر خان ای این کارا وہ ہو جوں کے تو یہی یہی ہے یا ان کا کالا یا اس کے راویوں کا اسلام ہوتے ہیں تو بیک خار سے برآری صد فعال داشتمان خنداں بہائے جانفشان توئی کیک کاٹنے کی وجہ سے سیکڑوں نہیں مارتا ہے اور عاشق رہتی یہاں قربان کر کے بھی سہتے رہتے ہیں