دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 131 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 131

مت کیا کیا چیز و پست سے دن بیریان شهوت پرست بنی قیر اور ذلیل کتنے شرم کے۔تو پہلوانوں کا نام شوت پوست رکھتا ہے۔ای نشان شرتی بہت اسے ایم کردنش رخشان بود تو یہ تقویم سے بریت کیا ہے ایک شہوت پرست کی عدمت ہے کہ ان کے چہرے سے اور اولی چکتا ہوا در نے پیدا شود به و فرش کنند و در خزان آید دل افروزش کند در کی دول اثر کند۔بنا رات کے وقت مہم کے علاوہ اسے دن تیار ہے توان کے موسم میں آئے اور اُسے بہار شاہ سے آپ منتظر ان ار ان بے ہوں بود اور نرو از ہر بشر افروں مارد اتوار اور خیر بیشتر اس بے مثل تھا کے اقدار کا منظر ہے۔محفل میں ہر انسان سے زیادہ ہو انا حل آن درد دل را استاد بخش نه بید کس بصد سالہ جہاد اس کی پیروی دل کو اس قدر انتشران ھے کہ کوئی سو سال جہاد کر کے بھی نہ پاتے اتباعش دل روز و جاں دی جلوه اثر طاقت پر دال دید اس کی اتباع بل کو روشن کردے اورکی جان ہے۔اور قضائی طاقتوں کی تجلی دکھاتے اتباع سینہ انسانی کند با خبر از یار چھاتی کند اس کی پیروی سینہ کو تھانی کیئے۔اور اس مخفی دوست سے باخبر بنائے منفی گو از معارف پر بار ہر بیان او سراسر در بود پیشه ہ اس کا کلام سنایی معارف سے بھرا ہوتا ہو اور آپ کا ہر بیان پاسکل ہوتی ہو از کمال حکمت و تشکیل دیں ماند بر اولین و آخرین اپنے حکمت کے کمال اور شریعت کی تکمیل کی وجہ سے انگوں اور پچھلوں کا سرمان ہوا۔