دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 11
گر شکیش جیسے ز خلق دگر اگتے ہیں جو خلق زیر دونیا میں سے کوئی اُس کا شریک ہوتا تو یہ تمام دنیا زیر و نزیر ہو جاتی ار جواز وصف خاکی و خاکست | ذات بیچون او از ال پاکست خاک اور تا کی مخلوق کی جو صفات ہیں اُس کی بے مثل ذات آپ سے پاک ہے ایند بر بلا سے ہر وجود نهاد خود نه بر قید و بند هست آزاد ہر وجود کے لیے اس نے کچھ پابندیاں لگادی ہیں مگر خود بر قید اور پابندی سے آرام ہے آدمی بنده هست و نقش بند اور دو صد حرص و آز سر بکھرا آدمی غلام ہے اور اس کا نقض مقصد ہے مسلط خواہشوں اور لانچوں میں پھنسا ہوا ہے مچنیں بندہ آفتاب و قمر بند در سیرگاه خویش و مقر اسی طرح سورج اور چاند بھی مجبور ہیں اپنے اپنے راستوں پر چلنے کے لیے لاچار ہیں ناه را نیست طاقت ریں کار که تا بد بروند چون احداد ساتھ کو اس امر کی قدرت حاصل نہیں کہ وہ دن کو آزادانہ چک سکے نیز خورشید را نه یارائے کہ بند یه سری شب پائے اسی طرح سورج کو بھی یہ قوت نہیں کہ دو رات کے تخت پر قدم لکھ سکے آب ہم بنده هست زینکه مدام بند در سردی است نے خود کام پانی بھی مجبور ہے کیونکہ ہمیشہ مرد یا میں تم جاتا ہے۔مرضی کا مالک تمھیں ے تیر نیز بنده او در چنیں سوزشے نلره او أف تیر آگ بھی اس کی تابعہ یہ ہے اللہ ایسی جلی میں اُسی کی ڈالی ہوئی ہے۔