دُرِّ عَدَن — Page 77
در عدن (2) ایک شب کو دعا کے بعد خواب میں یہ مصرعہ بآواز بلند سنائی دیا آنکھ کھلی تو حضرت اماں جان میرے قریب نماز میں مصروف تھیں بے خیر ہی خیر رہے خیر کی راہیں کھل جائیں اس پر مصرع لگایا گیا۔شعر ہوا۔وہ کرم کر کہ عدو کی بھی نگاہیں کھل جائیں خیر ہی خیر رہے خیر کی راہیں کھل جائیں“ (V) متفرق اور کرشمہ قادر باری! قدرت کا دکھلا دے بنے بنائے ٹوٹ چکے اب ٹوٹے کام بناوے الہی مشکلیں آسان کر دے الہی فضل کے سامان کر دے 77