دُرِّ عَدَن — Page 104
در عدن 104 محترمہ بشریٰ صدیقہ صاحبہ اہلیہ مکرم صدیق یوسف صاحب دارالصدر غربی ربوہ اپنے ایک مضمون میں تحریر کرتی ہیں۔وو آپ سیدہ کے نام لاہور سے محترمہ قیصرہ بیگم صاحبہ کا خط آیا۔انہوں نے آپ کو پیاری دادی جان“ لکھا ہوا تھا۔میں نے تعجب سے پوچھا کہ آپ کو دادی جان کس نے لکھا ہے کیونکہ میں کبھی کسی پوتے یا پوتی کو آپ کو دادی جان کہتے نہیں سنا تھا۔سب آپ کو بڑی اُمی“ کہتے تھے۔آپ سیدہ نے بتایا کہ یہ میاں (یعنی حضرت نواب محمد علی خان صاحب) کی بھتیجی قیصرہ بیگم ہیں یہ مجھے دادی جان کہتی ہیں۔پھر آپ نے قیصرہ بیگم کی طرف سے لکھی ہوئی نظم دکھائی اور بتایا کہ قیام پاکستان سے پہلے کی بات ہے کہ عزیزی قیصرہ کے امی ابا سفر پر گئے ہوئے تھے اور اس بچی کو میرے پاس چھوڑ گئے تھے۔یہ اپنی امی کو بہت یاد کرتی تھی اور اس کی فرمائش پر یہ نظم لکھی تھی اور اس کی طرف سے اس کی والدہ کو بھجوائی تھی۔اب جب عزیزہ قیصرہ بیگم کا خط جولاہور سے آیا تھا اس کے جواب میں دوبارہ یہ نظم لکھوا کر انہیں بھجوائی۔آپ سیدہ فرماتی ہیں کہ یہ اس خط کی نقل ہے جو میں نے اشعار میں تمہاری طرف سے تمہاری والدہ مرحومہ کو لکھا تھا“ سلام اس جس شاخ کا ہوں ثمر بڑا حق ہے جس کا میری ذات پر بڑے پیار سے جس نے پالا مجھے سمجھتی ہے گھر کا اجالا مجھے ہے کہ چاہو جو جنت ملے تو پاؤ گے ماؤں کے قدموں تلے خدا نے کہا قرآن میں رہو اپنی ماؤں کے فرمان میں