درثمین فارسی (جلد دوم) — Page 44
نه بر مهرش نظر باشد نه بر کیں na bar mehrash nazar baashad na bar keeN 61 ورطہ بحر محبت غریق ورطہء ghareeq-e warte-ye bahr-e mahabbat بحر عشق کے بھنور میں غرق ہونے والے کو نہ اُس کی محبت پر نظر ہوتی ہے نہ غصہ پر بگوش عاشق از لیہائے دلدار چناں نفریں عزیز آید کہ تحسیں bagoosh-e 'aasheq az lab-haa'ey dildaar chonaaN nafreen 'azeez aayad ke tehseeN دلیر کے ہونٹوں سے عاشق کے کانوں میں ملامت بھی ویسی ہی پسندیدہ ہے جیسے کہ شاباش چنان رویش خوش افتد از سر عشق که قربان می کند بروے دل و دیں ke qorban mey konad bar wai dil-o deeN chonaaN rooyash khosh oftad az sar-e 'ishq عشق کی وجہ سے محبوب کا چہرہ اتنا دلپسند ہوتا ہے کہ وہ اس پر اپنا دل اور دین قربان کر ڈالتا ہے شب و روزش به دلبر کار باشد دل و جانش شود آن یار شیریں dil-o jaanash shawad, aaN yaar-e sheereeN shab-o roozash, be dilbar kaar baashad دن رات اُسے دلبر سے ہی کام رہتا ہے اور وہ پیا را دوست اُس کا دل اور جان بن جاتا ہے بسوزد هر چه غیر یار باشد ہمیں این عشق را رسم است و آئیں besoozad har che ghair-e yaar baashad hameen een ishq raa rasmast-o aa'een جو بھی یار کے سوا ہو عاشق سب کو جلا دیتا ہے اس عشق کی یہی رسم ہے اور یہی طریقہ (الحام 15 - 17 اکتوبر 1901) 383