درثمین فارسی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 102 of 378

درثمین فارسی (جلد دوم) — Page 102

زاں کشش دل همی شود بیدار منتظر ز غیر و طالب یار motanaf-fer ze ghairo taalebe yaar zaaN kashsesh dil hami shawad bedaar اس کشش سے دل بیدار ہو جاتا ہے اور وہ غیر سے متنفر اور خدا کا طالب بن جاتا ہے رو ز هر میوه حرص و آز تابندہ سوئے یار ازل roo ze har hirso aaz taabeNde شتابنده soo'ey yaare azal shetaabeNde وہ ہر لالچ اور حرص سے منہ پھیر لیتا ہے اور یا راز لی کی طرف دوڑتا ہے از روضه فتا خورده و از خود و آرزوئے خود مُرده meewe az rauze'ee fanaa khorde سيل عشقش wa az khod wa arzoo'ey khod morde باغ فنا کا میوہ کھاتا ہے خودی اور خواہش نفسانی کی طرف سے مرجاتا ہے ز جائے خود بُرده رخت در جائے دیگر آورده saile 'ishqash ze jaa'ey khod borde پاک rakht dar jaa'ey deegar aaworde خدا کی محبت کا سیلاب اسے اپنی جگہ سے بہا کر لے جاتا ہے اور وہ کسی اور جگہ اپنا ڈیرہ ڈال دیتا ہے و طیب بچشم بیچونی پیش کوراں خبیث و paako tayyeb bachashme bechooni ملعونی peeshe kooraaN khabeeso mal'ooni وہ خدائے بچوں کی نظر میں پاک صاف ہو جاتا ہے اگر چہ اندھوں کے نزدیک خبیث اور ملعون ہوتا ہے از یقین پر چو شیشه عطار لا ابالی نے az yaqeeN por choo sheeshe'ee 'at-taar لعنت اغیار laa-obaali ze la'nate aghyaar وہ یقین سے ایسا پُر ہوتا ہے جیسے عطار کا شیشہ اور نا اہلوں کی لعنت سے لا پروا ہو جاتا ہے 439