درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 66 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 66

ذات باری تعالیٰ کے لئے حضرت اقدس کی والہیت اور شیفتگی ملاحظہ فرمائیے سے سخن نزدم مرال، از شہر یار نہ کہ راستم بر درے اُمید وارے خداوند سے کہ جاں بخش جهان است و بدیع و خالق و پروردگار سے کریم وقت در و مشکل کشائے بے رحیم و محسن و حاجت ہرارے فتادم برورش، نزیرا که گویند و برآید در جهان نارے نکار سے چوان یار وفادار آیدم یاد فراموشم شود، هر خویش دیارے بغیر اور چپساں بندم دل خویش ہے کہ بے روئیش تھے ایک قرار سے ولم در سینه ریشم مجوئید به که بستیمش بدامان نگارسے دل من دلبرے را، تخت گا ہے ہے سیر من در ره یارے نثارسے رہ چه گویم فضل او بر من چگون است که فصل اوست نا پیدا کنار ہے عنایت ہائے او را ، چون شمارم که لطف اوست بیرون از شمار ہے کے ترجمہ :۔میرے سامنے کسی بادشاہ کا ذکر مت کرو، کیونکہ میں توکسی اور ہی دروازہ پر امیدوار ہوں یعنی اس، آقاد کے دروازہ پر جو دنیا کو زندگی بخشنے والا (ہر چیز کا موجد اور خالق اور (ان سب کی اپرورش کرنے والا ہے۔وہ کریم ہے ، قادر ہے ، مشکل کشا ہے۔رحیم محسن اور (سب کی ضرورتیں پوری کرنے والا ہے۔کہیں اس کے در پر اس لئے آپڑا ہوں کہ کہتے ہیں کہ دنیا میں ایک کام سے دوسرا کام نکل آتا ہے۔جب وہ با وفا محبوب مجھے یاد آتا ہے۔تو دوسرے سب رشتہ دارا در دوست مجھے بھول جاتے ہیں۔ہمیں اس کے بغیر کس سے دل لگاؤں کہ اس کا چہرہ دیکھے بغیر مجھے چین نہیں آتا میرے دل کو میرے زخمی سینہ میں مت تلاش کردو، کیونکر ہم نے اسے ایک محبوب کے دامن سے باندھ دیا ہے۔میرا دل اپنے محبوب کا تخت ہے۔اور سر اس یاد کی راہ میں قربان ہے۔میں کیا بتاؤں کہ اس کا فضل مجھ پر کس کس طرح ہے کیونکہ اس کا فضل تو ایک نا پیدا کنانہ دریا ہے۔اس کی شفقتوں کو کس طرح گنوں ، کیونکہ اس کی نوازشات تو حد شمار سے باہر ہیں :