درثمین فارسی کے محاسن — Page 63
جان خود کس ند پدر بهر کس از صدق و وفا به راست این است که این جنس توم زان کوردی بر تو ختم است به شوخی و عیاری و از پیچ عیار نباشد که نه نالاں کردی ہر کہ در مجمرت اُفتاد تو بریاں کردی به هر که آمد بر تو شاد تو گریاں کردی تا نه دیوانه شدم ہوش نیامد بسرم : اے جنوں گرد تو گردم که چرا حسان کردی اسے تپ عشق با یزد که بدین خونخواری : کافراستی مگرم مرد مسلماں کر دی ور شین شت) حضرت اقدس نے ان مطالب کو دوسری جگہوں میں بھی مختلف رنگوں میں بیان فرمایا ہے۔مثلاً این جنس تو ارزاں کر دی " کے متعلق دیکھیئے کس بہر کے مریدید، جان نفشاند به عشق است که بر آتش سوزان بنشانید عشق است که این کار بصد صدق کناند به عشق است که بر خاک مذلت غلطاند اسے تیپ عشق “ کے متعلق فرمایا : سے دور ثمین ص۲۳۵) ے : کوئی شخص کسی کے لئے ثابت قدمی اور وفاداری سے جان نہیں دیتا۔سچ ہے کہ تو نے اس جنس کو ستا کر دیا ہے۔تجھ پر شوخی، چالا کی، نان سب ختم ہیں۔کوئی چالاک ایسا نہیں جسے تو نے نہ رلایا ہو۔جو کوئی تیری بھٹی میں گرا تو نے اُسے بھون ڈال ، اور جو کوئی تیرے پاس خوش خوش آیا تو نے اُسے رُلا کے چھوڑا۔میں جب تک دیوانہ نہ بنامیر سے ہوش ٹھکانے نہ ہوئے۔اسے جنون عشق میں تجھ پر قربان تو نے کتنا احسان کیا۔اسے تپ عشق قسم بخدا تو نے ایساخونخوار کافر ہوتے ہوئے مجھے مسلمان بنا دیا۔: یہ عشق ہی ہے جو ذلت کی خاک پر لوٹاتا ہے، یہ عشق ہی ہے جو جلتی آگ پر بٹھاتا ہے۔کوئی کسی کے لئے نہ سر دتیا ہے ، ز جان چھڑکتا ہے۔یہ عشق ہی ہے جو یہ کام پورے خلوص سے کرواتا ہے۔