درثمین فارسی کے محاسن — Page 62
۶۲ حقیقی دوستی کا تقاضا یہی ہے کہ اپنے آپ کو کلیتہ محبوب کے حوالہ کر دیا جائے۔جس طرح ایک عورت جس کے رگ و ریشہ میں کسی کی محبت رچ جائے تو وہ سب عواقب کو نظرانداز کر کے یہی چاہتی ہے کہ اپنے آپ کو محبوب کے حوالہ کر دے عشق کی انتہا یہی ہے۔کیا محبوب حقیقی کے عاشق اس سے پیچھے رہ سکتے ہیں؟ ایک جگہ حضرت اقدس عشق کو ایک الگ ہستی قرار دے کر اسے مخاطب کرتے ہیں۔علم بیان میں اسے استحضار کہتے ہیں۔یہ بھی عشاق کی ایک ادا ہے کبھی اپنے آپ سے باتیں کرتے ہیں کبھی کسی جانور کے آگے اپنا دکھ کھولتے ہیں کبھی ستاروں سے شکایت کرتے ہیں ، کبھی باد صبا کو اپنا راز دار بناتے ہیں اور گوناگوں واردات عشق کا ذکر کرتے ہیں۔مندرجہ ذیل اشعار میں ایک رنگ کا گلہ بھی ہے ، احسانمندی کا اقرار بھی ہے۔ساتھ ہی اس راہ کی مصائب اور ان کی لذات کا اظہار بھی ہے۔کیا راز و نیاز ہے۔فرمایا: سے اسے محبت عجیب آثار نمایاں کردی : زخم و مرہم بره یار تو کیسان کردی همه مجموع و عالم تو پریشان کردی و همه عشاق تو سرگشته وحیران کردی ذره را تو بیک جلوه کنی چونی خورشید : اسے بسا خاک کو تو چون مرتاباں کردی وه چه مجاز نمود که یک جلوه فیض : در رفتن بیزدی آمدن آسان کردی اسے بس خانہ فطنت کر تو ویران کردی وشمندان جهان را تو کنی دیوانه ے : اے محبت تو نے مجیب رنگ دکھائے یار کی راہ میں زخم اور مرہم دونوں برابر رہے۔دونوں جہانوں کے بے فکروں کو تو نے پریشاں کر دیا ، تمام عاشقوں کو تو نے سرگرداں اور جہان کر دیا۔تو ایک تجلی سے ذرہ کو سوج بنادیتی ہے کتنی ہی خاک جیسی ہستیاں ہیں جنہیں تو نے روشن چاند بنادیا واہ واہ تونے کیا معجزہ دکھایا کہ فیضان کی ایک ہی تجلی سے جانے کا راستہ اور انسانوں کو دیوانہ بنادیتی ہے اور بہت عقل و دانش کے ٹھکانوں کوتو نے ویران کر دیا :