درثمین فارسی کے محاسن — Page 278
حضرت اقدس نے اسے یوں بیان فرمایا : شان احمدا که داند بجز خدا وند کریم : آنچنان از خود جدا شد که میان افتادیم زرای نمط شد مجود لبرکز کمال اتحاد : پیکر او شد سراسر صورت ریت رحیمی در تمین نما) حضرت اقدس کے بیان کی فضیلت ظاہر وباہر ہے + لے ترجمہ : احمد کی شان کو سوائے خداوند کریم کے کون جان سکتا ہے ، وہ اپنی خودی سے اسطرح الگہ الگ ہو گیا کہ میم درمیان سے گیورگیا۔وہ اپنے تجوب میں اس طرح محو ہوگیا کہ کمال اتحاد کی وجہ سے اس کی صورت بالکل درست رحیم کی صورت بن گئی ہے۔