درثمین فارسی کے محاسن — Page 272
دا -14 قرار کہاں ؟ حضرت اقدس خود فرماتے ہیں : نه در فراق قرار آیدم نه وقت وصال به بحر تم ک من از عشق او چه سے جو تم؟ شیخ سعدی کہتے ہیں : سے قرار در کف آزادگان نگیرد سال مصیر در دل عاشق نه آب در قربانی : شیخ سعدی کا ایک اور شعر ہے : شعر العجم حصہ پنجم ) اگر خدائے نباشد زینده خوشنود به شفاعت همه پیغمبران ندارد سود ده اول تو اس شعر کا مفہوم ہی محل نظر ہے۔اللہ تعالیٰ کی ناراضگی دور کرنے کے لئے تو شفاعت کی ضرورت ہے۔اگر وہ اس حالت میں کارگر نہیں ہوسکتی تو شفاعت کا اعتقاد ہی بے معنی ہو جائے گا۔اس کے برخلاف حضرت اقدس اس تخیل کو بالکل مناسب موقعہ پر کام لائے اور فرمایا : گر خدا از بنده خوشنود نیست به هیچ حیوانے چو او مردود نیست سے (در ثمین فشا) شیخ سعدی نے مغول کے ہاتھوں بغداد کی تباہی پر ایک مرتبہ لکھا ہے جس کا مطلع یہ ہے ہے آسمان راحت بود گرخون بارد برزمینی و بر زوال ملک مستعصم امیر مومنین به ترجمہ : مجھے نہ فراق میں چکن آتا ہے نہ وصل میں ، حیران ہوں کہ میں اس کے عشق سے کیا چاہتا ہوں ؟ ترجمہ : نہ آزاد منش لوگوں کی ہتھیلی میں مال قرار پکڑتا ہے، نہ عاشق کے دل میں صبر اور ن مھلتی میں پانی۔سے ترجمہ : اگر خدا کسی بندہ سے خوش نہ ہو ، تو سب پیغمبروں کی سفارش سے بھی اسے کوئی فائدہ نہیں۔کے ترجمہ : اگر خدا کسی بندہ سے خوش نہ ہو ، تو کوئی حیوان بھی اس جیسا مردود نہیں۔ش ترجمہ: آسمان کوحق ہے کہ زمین پر خون کے آنسو بہائے، امیرالمومنین ستعصم بالہ کی حکومت کے زوال پر۔