درثمین فارسی کے محاسن — Page 255
۲۵۵ کلام یا معنی کے سرقہ کے سوال پر جن لوگوں کی غفلت دیکھی جاتی ہے وہ عام پبلک نہیں بلکہ ادباء اور بلغاء کا طبقہ ہے)۔(۲) وہ کلام یامعنی شاملات کی طرح ایسا تو نہیں کہ اس کو استعمال کرنے کا حق پبلک کو حاصل ہو اور وہ کسی شخص کی مملوکہ چیز کی طرح نہ ہو بلکہ وہ عام عنی یا مشہور لفظ یا محاورہ ہو جس کے متعلق کسی شخص کا یہ دعوی نہ چل سکے کہ وہ میری ہی ایجاد ہے یا یہ کہ میں نے اس میں فلاں فلاں جدت پیدا کر دی ہے جس کے باعث وہ میرا ملک ہو گیا۔بلکہ عام متداول لفظ یا ترکیب بامعنی ہو، کیونکہ ملک عام چیز کو اپنے استعمال میں لانے والا شخص صادق نہیں کہلا سکتا۔چنانچہ ابن رشیق اس بارہ میں لکھتا ہے والسرق ايضًا إنما هو فى البديع المخترع الذي يختص به الشاعر لا في المعانى المشتركة التى هى جارية في عاداتهم ومستعملة في امثالهم ومحاورتهم فما ترتفع به الظُّنَّة فيه من الذي يُورده ان يقال إنه اخذه من غيرية ( العمدة جلد ثاني ) (۳) اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ وہ کلام یا معنی اس کا اپنا طبغراد نہیں ہے بلکہ اس نے اسے کسی دوسر سے کے کلام سے اخذ کیا ہے اور جب کسی معنی یا کلام کا مشرق ہونا ثابت ہو جائے تو پھر اسے محل اعتراض قرار دینے سے قبل اس بات پر غور کر لینا ضروری ہوتا ہے کہ ا میں شخص کو دوسرے کے کلام کا آخذ قرار دیاگیا ہے سے ترجمہ : اور سرقہ بھی صرف ایسی نئی ایجادات میں ہو سکتا ہے ، جو کسی شاعر سے مخصوص ہوں نہ کر ایسے مشترکہ معنوں میں جو ان دینی اہل زبان کے معمولات میں شامل ہوں اور ان کی کہاوتوں اور محاوروں میں مستعمل ہوں اور جو شخص انہیں اپنے کام میں لٹے سے متعلق یقینی طورپر نہیںکہا جاسکا کراہنے ہیں کسی دوسرشار سے اخذ اسرقہ کیا ہے۔