درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 254 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 254

لفظی و معنوی فراوان کرده، در صورتیکه از دیوان حکیم سنائی غزنوی با همه ارادتی که با اوارد چینی اقتباسی نکرده است۔و این اقتباسات دلیل بر عظمت فکر نظامی وشیوائی سخن اوست تا حدیکه که عارف و سخنور بزرگی مانند مولوی را مجذوب داشته " یعنی جلال الدین مولوی (مولاناروم جومعرفت اور شاعری کے ملک کے عظیم فرمانروا تھے انہوں نے حکیم نظامی کے اشعار سے بہت اقتباس (اخذ) کئے۔مولانا روم نے دیوان نظامی کو ہمیشہ اپی آنکھوں کے سامنے رکھا۔اور اس بڑی کثرت سے لفظی اور معنوی اقتباسات کئے جبکہ آپ نے باوجودیکہ آپ کو حکیم سنائی غزنوی سے بڑی عقیدت تھی۔ان دحکیم سنائی سے اتنے اقتباس نہیں کئے۔یہ اقتباس نظامی کی عظمت فکر اور اس کے کلام کی عمدہ روش پر دلالت کرتے ہیں۔یہاں تک کہ ایک عارف باللہ اور عظیم منور مانند مولانا روم کو اپنا گرویدہ بنالیا مول تا محمد اسمعیل صاحب فاضل حلالپوری نے تنویر الابصار میں سرقہ اور اخذ کی خوب و منات کی ہے ، خاکسار اس قابل قدر کتاب سے ایک لمبا اقتباس لانے پر معذرت خواہ ہے، کیونکہ موضوع بہت اہم ہے اس لئے اس کی پوری وضاحت بہت ضروری ہے۔مولانا موصوف فرماتے ہیں:۔یکی اس موقعہ پر مکر اس بات کو واضح کر دینا ضروری سمجھتاہوں کہ کسی کلام کو سرقہ پر محمول کرنے سے قبل کم از کم مندرجہ ذیل امور پر پوری طرح نظر ہونی چاہیے :۔(1) جس معنے یا کام کو مسروق قرار دیا گیا ہے ، وہ شعراء میں ایسا مشہور ومعروف تو نہیں کہ اسے اپنے کلام میں داخل کرنا ، سرقہ ( چوری ) کہ ہی نہ سکیں۔کیونکہ سرقہ چوری بغیر پردہ اور اخفاء کے ممکن ہی نہیں اور چوری کے مفہوم میں یہ بات داخل ہے کہ لوگوں کو کسی چیز نشست میں پا کر اس غفلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ناجائز طور پر اس چیز کو اپنے قبضہ و تصرف میں لایا جائے مدیہ بھی یاد رہے کہ