درثمین فارسی کے محاسن — Page 252
rar ملحقات میں سے تضمین اور اقتباس ہے۔اور وہ یہ ہے کہ دوسرے کے کلام کو ایسی طرح سے اپنے کلام میں لے آوے کہ سیاق کلام سے یہ علوم ہو کہ یہ بھی اسی کا کلام ہے، چنانچہ اکثر کلام اللہ کی آیت یا حدیثوں کو اپنے کلام میں مذکور کرتے ہیں اور فارسی اور اردو کہنے والے اکثر اس پر اشارات بھی کر دیتے ہیں۔تاکہ سرقہ کے احتمال سے کلام سبرا ہو جائے یا ۱۶۰ ( ترجمه حدائق البلاغت ما تاخت ) یہ خیال رہے کہ علم بلاغت کی بعض کتب میں نقل تضمین اور اخذ کے الفاظ قریب قریب ہم معنی استعمال ہوئے ہیں اور بعض مصنف اخذ قبیح کو سرقہ اور اخذ ملیح کو تضمین کہتے ہیں۔ایک اور صاحب لکھتے ہیں :۔" اساتذہ فن کے کلاموں پر جن کی نظر ہے ، ان سے یہ امر مخفی نہیں کہ ایک ہی مضمون ہوتا ہے جسے ہر ایک شاعر کہتا ہے۔لیکن ہر ایک کا انداز جدا ، ہر ایک کی بندش الگ، کہیں اگلوں کے کلام میں لطائف ہوتی ہے اور کہیں پچھلے اس مضمون کو زیادہ پرتاثیر بنا دیتے ہیں۔مثلا سعدی کا ایک شعر ہے (مثال اول):- بجز این گنه ندارم ک محب مهربانم : بچه جرم دیگر از من سرا مقام داری؟ اسی مضمون کو خسرو کہتے ہیں : گفتم کہ ہیں ترا سلام و گرمت گناہ میں میں سے خسرو کے شعر کا لطف ظاہر ہے۔صرف ایک لفظ غلام نے وہ خوبی پیدا کردی ے ترجمہ :۔سوائے اس کے میرا کوئی گناہ نہیں کر یں محب اور مہربان ہوں تو اور جرم کی وجہ مجھ سے منا لینے کے ر ہے ہے ؟ کے ترجمہ : میں نے کہا ہی کہیں تیرا غلام ہوں ، اگر میرا کوئی گناہ ہے تو یہی ہے۔