درثمین فارسی کے محاسن — Page 221
۲۲۱ گر تو افتی با دوصد درد و نفیر : کس بے خیزد که گرد دستگیر زهر و تریاق است در ما مستتر : آن کشد این می دهد جان دگر دور ثمین ص۲۱) ور ثمین ص ۲۳) گونه بود در مقابل روئے مکروه پرسید : کسی چھر دانستے جمال شاہد گلفام را در ثمین ص۳۶) زیر لب گفتگوئے جانا نے بے زندگی بخشدت بیک آنے دور ثمین (۳۳۵) حاجت نورے بود هر چشم را را این چنین افت د قانون خدا در تمین ماه ) عقل طفل است اینکه گرید زار زارد شیر جز ما در نیاید زینهار در ثمین ) و آنکه در کمین کراهت سوخت است : نفس دون را هست صید لاغره دور ثمین م ے ترجمہ : ہجائے اندر زہر اور تریاق دونوں مخفی ہیں، وہ بلاک کرتی ہے اور یہ نئی زندگی بخشتا ہے۔اگر تو چیختا چلا تا گر پڑے تو کوئی تیری مدد کے لئے اٹھ کھڑا ہوگا۔اگر مقابل میں کوئی بھونڈا اور کال چہرہ نہ ہوتا، توپھولوں جیسی زنگت الے جو بے حس کی کون در کرتا کسی محبوب آہستہ آہست کلام کرنا تھے پل بھرمیں نئی زندگی بخشتا ہے۔ہر آنکھ کو روشنی کی ضرورت ہوتی ہے۔خدا تعالیٰ کا قانون اسی طرح واقع ہوا ہے۔بچے کی عقل تو اتنی ہی ہے کہ زار زار روئے ، مگر ماں کے بغیر دودھ ہرگز نہیں ملتا۔جو شخص بھنی اور کراہت کے باعث کڑھتا رہتا ہے، وہ ذلیل نفس کے لئے ایک کمزور شکار ہے۔