درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 217 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 217

۲۱۷ آدمی بنده هست و نفسش بند به در دو صد حرص و از سر کند همچنین بنده آفتاب و قمر + بند در سیرگاه خویش و مقر ماه را نیست طاقت این کار : که بتابد بروز چون احرار نیز خورشید را نه یا رائے : کہ نہد بر سر یہ شب پائے آب ہم بندہ ہست نہیں کہ مدام به بند در سردی است نے خود کام آتش تیز نیز بنده او : در چنیں سوزشے فگنده او گر براری به پیش او فریاد : گرمیش کم نہ گردو اسے اُستاد پائے اشجار در زمیں بندست به سخت در پاسلاسل انگلند است ایں ہمہ بستگان آن یک ذات بر وجودش دلائل و آیات اسے خُدا وند خلق و عالمیان به خلق و عالم نه قدرت حیراں چه مهیب است شان و شوکت تو چه عجیب است کار و صنعت تو د در همین طه ۱۲ کے ترجمہ : انسان بھی بندھا ہوا ہے ، اور اسکا نفس بھی سینکڑوں خواہشوں اورٹا بچوں میں مقید ہے۔اور اس کا سر خیالی بھی ایک پھند میں جکڑے ہوئے ہیں۔اسی طرح سورج اور چاند بھی اپنے اپنے راستوں اور دوسر ستاروں کے مقابل میں اپنے مقام کے پابند ہیں۔چاند کو اس امرکی قدرت نہیں کروہ دن کو آزادانہ چپک سکے ان سوچ میں یہ ہمت ہے کہ وہ را کے تخت پر پاؤں رکھ سکے۔پانی بھی مجبور ہے کیونکہ وہ ہمیشہ سری میں مقید ہے اور اپنی منی کا مالک ہیں نیز اگ بھی اسی پابند ہے والی جلن میں ہی کی ڈالی ہوئی ہے اگر تو اسے سامنے فریاد بھی کرے تو اس کی گرمی کم نہیں ہوگی۔درختوںکے پاؤں بھی زین میں جکڑے ہوئے ہیں۔اوران میں بول نیری بھی پڑی ہوئی ہیں۔یہ سب چیزیں اسی ایک ہستی سے وابستہ ہیں اور اسی کے وجود پر دیں اور نشانیاں ہیں۔آجہان اور جہان والوں کے مالک دنیا جہان تیری قدرت پر حیران ہے تیری شان شوکت کیسی پر ہیبت، اور تیرے کام اور کاریگری کتنے جیب ہیں :