درثمین فارسی کے محاسن — Page 186
TAY پھودیں درست بود شبیرے نے باید : که زور قول موجه عجب نما باشد د در ثمین صدا خوشم بخورد کشیدن اگر کشته شوم : ازین که هر عمل وفعل را جزا باشد YYA د در ثمین ص۲۶) صبر کردیم از عنایاتش برین صد ضرب کوفت و سرمه در چشم نیاید تا نے گردو غبار دور شین مشا) چون به بینی به بیشے شیرے : نہ کنی در گریستن دیرے ہمچھنیں پیش تو پوگرگ آید : دل تپد ہیبت سترگ آید پس بدیں دعوئے یقیں کہ ترا : هست بر کردگار و روز جزا باز چوں مے گنی گناه بزرگ چه خدا نیست نزد تو چون گرگ کئی در ثمین (۳۵) بعض نقاد نے یہ قرار دے رکھا ہے کہ ہر شعر اپنی ذات میں مکمل ہونا چاہیئے حتی کہ دو قطعہ بند شعروں کو بھی معیوب گردانتے ہیں لیکن بعض جید شعرا بھی اس خود ساختہ قاعدہ کی پابندی نہیں کرتے مثلاً ے ترجمہ : جب دین صحیح ہو تو خنجر کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ با لال کلام کی طاقت سمجھ نما ہوتی ہے۔میں ہر ظلم برداشت کرنے پر رضامند ہوں، خواہ قتل کیا جاؤں، کیونکہ ہر عمل اور فعل کی جیز ا ضرور ملتی ہے۔اس کی مہر بانیوں کے پیش نظر ہم نے سینکڑوں قسم کی مار پیٹ پر صبر کیا، کیونکہ جب تک شرم پیس کر غبارہ نہ ہو جائے آنکھ کے قابل نہیں ہوتا۔جب تو کسی جنگل میں شیر کو دیکھ لیتا ہے تو وہاں سے بھاگنے میں دیر نہیں کرتا ، اسی طرح تیرے سامنے جب بھیڑیا آجاتا ہے، تو تیرا دل تڑپنے لگتا ہے اور تو سخت خوفزدہ ہو جاتا ہے۔پس یقین کے اس دعوے کے ساتھ جو تجھے خدا اور قیام کے دن پر ہے پھر کس طرح کبیرہ گناہ کا مرکب ہوتا ہے۔کیا تیرے نزدیک خدا بھیڑیئے کے برابربھی نہیں ؟