درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 163 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 163

ایمان کے قابل قدر ہونے کی بنا پر اسے متاع اور مایہ قرار دیا ہے (۵) هست بر اسرار اسرایه دگر : تا کی تازد خیر مفکر و نظر د در ثمین ) فکر و نظر کی کم فہمی اور سست روی کی بنا پر انہیں گدھا قرار دیا۔سوم : جزو دیکھانے یا کل قرار دینے کے علاوہ بھی اضافت استعاری سے کئی اور طریقوں میں کام لیا جاتا ہے۔مثلاً : (1) پائے سعیت بلند تر نرود : تا ترا درد دل بسر نرود در ثمین نا) مقصود کوشش کی تیزی بیان کرنا ہے۔رفتار کے لحاظ سے سعی دکوشش کو گھوڑا قرار دے کر اس کے پاؤں تجویز کئے۔اور پاؤں کے اُونچا اٹھنے سے تیز رفتاری کا مفہوم پیدا کیا ہے (۲) از همه عالم فرو بستن نظر : لوح دل شستن زیر دوست داره در این منشا) نقش تختی پر ہوتا ہے پس دل کو تختی قرار دیا، جس پر غیر کے نقش ثبت ہو چکے تھے۔(۳) اے رسن ہائے آنر کردہ دراز : زمیں ہوس پا چرا نیائی باز؟ در ثمین (ص۳ لے ترجمہ : ان بھیدوں کے اوپر بھید چھائے ہوئے ہیں عقل و فکر کا گدھا کہاں تک دوڑے گا ؟ کے ترجمہ :۔تیری کوششوں میں تیزی پیدا نہیں ہوسکتی جب تک تیرے دل کی آگ کا دھواں سرتک نہ پہنچ جائے۔کے ترجمہ :۔سارے جہان سے انکھیں بند کر لینا اور دوست کے نقوش کے سوا ہر چیز کو دل کی تختی سے دھو ڈالنا۔کے ترجمہ : اے وہ کہ جتنی اپنی کی باگیں ڈھیلی چھوڑ رکھی ہیں، تو کیوں ان ہوس پرستیوں سے باز نہیں آتا ہے