درثمین فارسی کے محاسن — Page xvi
حضور علیہ السلام کمرے کے دائیں طرف ایک پلنگ پر بیٹھے ہوئے تھے۔پاؤں مبارک نیچے لٹک رہے تھے۔اور اخبار کا مطالعہ فرما رہے تھے۔ہم تینوں نے چاندی کا ایک ایک روپیہ حضور کی خدمت میں پیش کیا۔حضور خاکسار کی والدہ سے کچھ باتیں فرماتے رہے۔لیکن خاکسار کو ان باتوں میں سے کچھ بھی یاد نہیں۔اور نہ یہ یاد ہے۔کہ وہاں سے کب اور کیسے واپس ہوئے۔دوسری مرتبہ بھی صبح کا وقت تھا۔سورج ابھی نکلا ہی تھا خا کسار کو یہ یاد نہیں کہ کس طرح اور کدھر سے مذکورہ برآمدہ میں داخل ہوئے۔صرف اتنا یاد ہے۔کہ برآمدہ کے دالان والے باہر کے کونے سے ایک دو سیٹرھیاں چڑھ کر ایک اور برآمدہ میں داخل ہوئے۔جس کے بائیں طرف ایک کوٹھڑی میں حضور علیہ السلام تشریف فرما تھے۔اس کوٹھڑی کا دروازہ برآمدہ میں تھا۔اور دائیں طرف کی دیوار میں ایک کھڑ کی تھی۔شائد دروازے کے بالمقابل بھی ایک کھر کی تھی۔لیکن اب ٹھیک طرح یاد نہیں۔کوٹھڑی میں صرف کوئکلوں کی ایک دہکتی انگیٹھی تھی۔اور ایک چار پائی جس پر کوئی کپڑا بچھا ہوا نہیں تھا۔حضور چار پائی پر سرہانے کی طرف بیٹھے ہوئے تھے۔اور رخ مبارک پاپیلتی کی طرف تھا۔جو دروازہ کی طرف تھی۔حضور نے ایک کشمیری لوئی جس کا رنگ اونٹ کے بالوں کی طرح تھا۔اور کنارہ سبز تھا۔اپنے اوپر لیٹی ہوئی تھی۔پاؤں مبارک اسی میں چھپے ہوئے تھے۔حضور خاموش بیٹھے ہوئے تھے۔اس دفعہ بھی ہم تینوں ہی تھے اور چاندی کا ایک ایک روپیہ نذرانہ پیش کیا۔خاکسار کی والدہ سے حضور نے کچھ باتیں کیں۔لیکن خاکسار کو ان باتوں میں سے کچھ یاد نہیں۔اور نہ یہ یاد ہے۔کہ وہاں سے کب اور کس طرح واپس آئے۔البتہ حضور کی شبیہ مبارک دماغ میں نقش ہے۔دو واقعات جو خاکسار کو تو یاد نہیں۔والد صاحب مرحوم بیان فرمایا کرتے تھے۔ایک دفعہ مسجد اقصیٰ میں کچھ احباب جمع تھے۔اور حضرت اقدس کا انتظار تھا۔یہ عاجز لوٹوں اور ٹونٹیوں سے کھیل رہا تھا کہ حضرت مفتی محمد صادق صاحب مرحوم نے جھڑ کا۔اس عاجز نے رونا شروع کر دیا (XII)