دُختِ کرام ؓ — Page 2
وخت کرام 2 آپ سے کام لینا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو الہاماً بتایا کہ ” میں نے ارادہ کیا ہے کہ تمہاری دوسری شادی کروں۔یہ سب سامان میں خود کروں گا اور تمہیں کسی بات کی تکلیف نہ ہوگی۔“ 66 چنانچہ اللہ میاں نے اپنے وعدے کے مطابق آپ کی دوسری شادی کا انتظام ایک انتہائی معز ز سادات گھرانے میں کر دیا۔آپ کی دوسری بیوی کا نام سیّدہ نصرت جہاں بیگم تھا۔اور ان کے والد کا نام حضرت میر ناصر نواب تھا جو بہت نیک اور پارسا انسان تھے۔جب حضرت سیّدہ نصرت جہاں بیگم پیدا ہوئیں تو حضرت میر ناصر نواب صاحب یعنی آپ کے والد نے یہ دعا مانگنی شروع کر دی کہ اللہ میاں اس بچی کو دنیا کا بہترین ساتھی عطا فرما۔ایک عجیب اور ایمان افروز بات یہ ہے کہ حضرت میر ناصر نواب صاحب کے آباؤ اجداد کے ایک بزرگ کو یہ کشفاً بتایا گیا تھا کہ اس خاندان کا تعلق امام مہدی علیہ السلام سے ہونا مقدر ہے۔چنانچہ مئی 1884ء میں حضرت اماں جان سیدہ نصرت جہاں بیگم کی شادی حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح و مہدی علیہ السلام سے ہوگئی۔اور یوں یہ پیشگوئی انتہائی شان سے پوری ہوئی۔جماعت احمد یہ میں حضرت سید و نصرت جہاں بیگم انماں جان کے نام سے مشہور ہیں۔اب تو آپ کو پتہ لگ گیا ہوگا کہ دُخت کرام اس پاکیزہ جوڑے کی بیٹی تھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت لتاں جان کو اللہ میاں نے دس