دُختِ کرام ؓ

by Other Authors

Page 34 of 41

دُختِ کرام ؓ — Page 34

وخت کرام 34 ایک دفعہ انہوں نے مجھے بتایا کہ میں نے زندگی میں صرف ایک دوست بنائی ہے اور وہ سردار ہے یعنی استانی سردار صاحبہ جو جامعہ نصرت میں وارڈان تھیں۔پ اپنے بچوں کو دوستوں کے ساتھ کمرے بند کر کے کھیلنے سے منع کرتیں۔آپ فرماتی تھیں کہ جو کھیل بھی کھیلو ماں باپ کی نظروں کے سامنے ہو۔بچوں سے محبت آپ کا اپنے بچوں سے دوستوں والا تعلق تھا اور ساتھ آج کل کے ماں باپ کی طرح بے تکی بے تکلفی اور بے لحاظی نہ تھی بلکہ اپنا رعب قائم رکھا ہوا تھا آپ اپنے بچوں کی عزت نفس قائم رکھنے والی ماں تھیں بچوں میں یہ احساس ڈالا ہوا تھا کہ اپنی تکلیف کا اظہار خدا کے سوا کسی کے سامنے نہیں کرنا۔آج کل لڑکیاں اپنی چھوٹی چھوٹی باتیں بھی اپنے والدین کو بتا دیتی ہیں۔آپ کو یہ سخت نا پسند تھا اسی لئے آپ کے بچے اپنی کسی تکلیف کا اظہار ماں باپ کے سامنے نہیں کرتے تھے۔ایک دفعہ ان کی بیٹی صاحبزادی طاہرہ صدیقہ کے پاس پارٹیشن کے بعد کوئی رضائی نہیں تھی۔آپ نے اپنی والدہ سے کہا کہ مجھے کمبل بھجوا دیں۔جب رضائیاں بھر کر آجائیں گی تو میں واپس بھجوا دوں گی۔کچھ دن بعد سیدہ امتہ الحفیظ بیگم نے کمیل منگوا لئے یہ سمجھتے ہوئے کہ شاید رضائیاں آگئی ہوں۔اس رات