دُختِ کرام ؓ — Page 27
وخت کرام 27 غالباد شمنی سے بھابی جان کے بیگ میں چیزیں ڈال دی تھیں۔واللہ اعلم لیکن حضرت دیگم صاحبہ اور فوزیہ شکر ادا کر رہے تھے کہ انہیں اللہ میاں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صدقے اس ذلت سے بچالیا۔ورنہ ہمارے برقعے تو ان لوگوں کی نظروں میں زیادہ قابل گرفت تھے۔اس واقعہ کے بعد بھابی جان کی طر ز بھی بدل گئی اور وہ محبت اور عزت سے پیش آنے لگیں۔اللہ میاں کس طرح اپنے پیاروں کی عزت رکھتا ہے۔اور اللہ میاں کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے وعدہ بھی تو ہے " انـى مهـیـن مـن اراد اهانتك» یعنی میں اهانت کروں گا اس کی جو تیری اھانت کا ارادہ بھی کرے گا۔اس سفر سے حضرت سید وامتہ الحفیظ بیگم اور ان کی بیٹی کو دینی دینوی فائدے پہنچے۔دنیا میں پھر کر اللہ کے فضلوں کا مشاہدہ کیا۔اللہ میاں کا شکر پیدا ہوا تو طبیعت بھی بحال ہوگئی۔ستمبر میں آپ لاہور واپس آ گئیں۔خلافت سے محبت حضرت سیدہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ میں خلافت کا بے حد احترام اور محبت تھی۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب آپ