دُختِ کرام ؓ

by Other Authors

Page 17 of 41

دُختِ کرام ؓ — Page 17

وخت کرام راستے میں چندہ ادا کریں۔17 آپ گھنٹوں نوافل ادا کرتیں اور اپنے بچوں کو بھی دعاؤں کی تلقین کرتی تھیں۔بعض اوقات آپ کو خواب آتی جو دوسرے دن ہی پوری ہو جاتی۔جماعت کی خواتین آپ کے پاس دعا کے لئے آتیں آپ ان کے لئے دردِ دل سے دعا کرتیں اور جب تک دعا قبول نہ ہوتی ان کے لئے فکر مند رہتیں۔اکثر ایسا ہوا کہ آپ کو کسی چیز کی ضرورت پڑی اور اللہ میاں نے کہیں نہ کہیں سے بھجوادی۔جب بھی ایسا ہوتا آپ کا چہرہ خوشی سے چمکنے لگتا۔اور آپ بار بار اللہ میاں کا شکر ادا کرتیں اور لوگوں سے بھی خوش ہو کر اس کا ذکر کرتیں۔ایک دفعہ آپ کو شہد کی ضرورت پڑی۔آپ کی بڑی بیٹی نے کہا میں نے حضرت مرزا ناصر احمد صاحب کے پاس دیکھا ہے میں ان سے لا دیتی ہوں آپ نے فورا منع کیا اور فرمایا مجھے نہیں پسند کہ میں اپنی ضرورت کسی انسان سے بیان کروں۔میرا خدا میری ہر ضرورت پوری کرتا ہے۔اللہ میاں نے اس فقرہ کی ایسی لاج رکھی کہ اسی دن کہیں سے شہد آپ کے پاس آ گیا۔آپ کو اللہ میاں پہلے سے آنے والے حادثات کی خبر دے دیتا تھا۔آپ کے شوہر کی بیماری کی اللہ میاں نے بہت سال پہلے آپ کو اطلاع دے