دُختِ کرام — Page 433
۴۲۱ با برکت وجود ہے۔بلکہ اپنے عزیزوں رشتہ داروں بالخصوص بچوں کے دل میں یہ جذبہ راسخ کر دیا کہ اس نادر وجود کا قرار واقعی احترام کیا جاتے اور یہ اسی جذبہ کا اثر تھا کہ سارے عزیز و اقارب حضرت سیدہ مرحومہ کے لیے دیدہ و دل فرش راہ کئے رہتے اور اس میں حضرت سیدہ موصوفہ کے او صاحب حسنہ اور اخلاق کریمانہ کا بھی بہت زیادہ عمل دخل تھا۔حضرت سیدہ مرحومہ کی زندگی کا ہر گوشہ اپنے اندر اس قدر حسن و جمال اور جذب دکشش رکھتا ہے کہ ہر دیکھنے والا متاثر ہوئے بغر نہیں رہتا آپ کی زندگی کا ہر لمحہ قال اللہ و قال الرسول کے تحت تھا۔آپ کی کس کس خوبی کا ذکر کیا جائے کس کس وصف کو بیان کیا جائے۔آپ تو سرا پا حسن و احسان اور سرتا پا اخلاق کریمانہ کی چلتی پھرتی تصویر تھیں آپ سے مل کر روحانی تسکین ہوتی۔دل میں خوشی کی لہریں پیدا ہوئیں اور ایک ایسا لطف و سرور اور ذہنی تازگی حاصل ہوتی کہ الفاظ جس کا احاطہ نہیں کر سکتے اور میرے جیسی کم مایہ اس با برکت وجود کی سیرت و سوانح کے متعلق بیان کرنے سے عاجز ہے۔میں تو صرف یہ جانتی ہوں اور علی وجہ البصیرت اس بات کا اقرار کرتی ہوں کہ میں نے اس عاجزہ نے جو کسی بھی قابل نہیں علمی و عملی اعتبار سے کوتاہ دست اور لاشے محض لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کی مبشر و مظہر ذریت کے فضیل بہت کچھ پایا۔مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضلوں سے نوازا اور اس قدر نعمتوں سے متمتع کیا کہ میں شکر ادا نہیں کر سکتی۔