دُختِ کرام — Page 402
۳۹۰ نسب کی غمازی کرتا تھا اپنوں اور غیروں سے حسن سلوک مخلوق خدا پر رسم و شفقت آپ کا نمایاں وصف تھا۔آپ میں اپنی شان و شوکت کا کوئی اظہار نہ تھا۔نہ طبیعت میں نمود و نمائش تھی نہ آن بان تھی۔نہ ہی کسی سے حسد نہ کسی کی عظمت و شان سے مرعوب کچھ بھی تو نہ تھا۔جو کچھ تھا وہ سب خدا تعالیٰ کی خاطر تھا ایک مصفیٰ اور پاک وجود تھا۔جو منظر صفات باری تعالیٰ تھا۔ایک دفعہ میں نے حضور کے متعلق دیکھا ہوا ایک خواب بیان کیا آپ سن کر بے قرار ہو گئیں اور آپ کی آنکھوں سے اشک رواں ہو گئے شدت جذبات سے آپ کی آواز ملتی میں اٹک گئی کا پتے ہوتے ہاتھوں سے آپ اپنے آنسو پونچھو رہی تھیں پھر آپ نے بھرائی ہوئی آواز میں فرمایا۔قوم تمہارا خواب بہت بابرکت ہے۔حضور کو ضرور لکھو اور دُعا کے لیے بار بار لکھواب خدا تعالیٰ تمہارے سارے کام خود کر دے گا۔تم گھبراؤ نہیں اور فکر نہ کرو مجھے تسلی دے رہی تھیں اور اپنی حالت یہ تھی کہ آنسو تھم نہیں رہے تھے حضور کو دعا کے لیے اور اپنے حالات لکھنے کے لیے اکثر مجھے نصیحت فرمایا کرتیں۔پھر میرا بیرون ملک جانے کا پروگرام بنا کسی نے آپ سے بھی ذکر کر دیا آپ نے مجھے بلوایا اور پوچھا میں نے دُعا کے لیے عرض کیا آپ نے بڑی اُداسی سے فرمایا۔اچھا تم بھی جا رہی ہو ئیں نے اپنی مجبوری کا اظہار کیا ہو۔اپنی کہ بیٹا اتنے سالوں سے باہر ہے اس لیے جانا چاہتی ہوں یہ سن کر فرمایا اچھا ٹھیک ہے چلی جاؤ لیکن سارے بچوں کو ساتھ لے جاؤ اور جانے سے