دُختِ کرام

by Other Authors

Page 321 of 497

دُختِ کرام — Page 321

۳۰۹ پہلے زہرہ بھی ملنے آئی۔اس لڑکی نے 4 سال امتی کی خدمت کی اور آئی دعائیں میں کہ بعض وقت اس پر رشک آتا ہے اس کے بیٹے کا حال پوچھپتی رہیں اس کو اور اس کے میاں کو پانی پلانے کو کہا۔کھانے پر بڑی مشکل سے دو دہی کے پیچھے لیے سب بہنوں نے کہا کہ رات تم جاگتی رہی ہو اب اس وقت آرام کرو ہم بیٹھے ہیں۔ابھی مشکل سے دس منٹ گزرے ہونگے کہ مجھے بلاوا آگیا۔میں دوڑ کر گئی تو امی کا رنگ زرد ہو رہا تھا۔سانس غیر ہموار تھی میں نے جلدی سے دل کی دوائی کے قطرے دیتے دوبار میرے کہنے سے منہ کھولا اور پھر آنکھیں پھر گئیں اور بڑے سکون سے اپنے مولائے حقیقی کو جان دے دی۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔آپا زکیہ نے بعد میں بتایا کہ طبیعت بگڑی تو ہے ہی کہا۔ہم گھرا کہ اتی کو سنبھالنے میں لگے رہے تو بڑے غصے سے دوبارہ " بے بی " کہا تو پھر مجھے بلانے گئیں گویا آخری وقت تک اس محبت کو نبھایا۔آج مجھے بے بی کہنے والا کوئی نہیں پہلی دفعہ احساس ہوا کہ وقت کتنا گذر گیا۔میری مانگ میں سفیدی آگئی لیکن مجھے پتہ ہی نہ چلا کہ بے بی کہلوانے کا زمانہ توعرصہ ہوا بیت چکا تھا۔انہوں نے تو میری ساری ذمہ داریاں اپنے کزور کاندھوں پر اٹھائی ہوتی تھیں اب جو اپنے کاندھوں پر بوجھ محسوس کرتی ہوں تو زندگی کا سفر بہت طویل لگنے لگتا ہے اور وقت سست رفتار۔بس اب تو ایک ہی دعا ہے کہ مولا یہ تو ہمیں چھوڑ گئیں تو نہ میں چھوڑ یو - روز قیامت مجھے میری ماں کے سامنے سرخرو کرنا اور ان کے لاتعداد احسانات